زکوٰۃ کیلکولیٹر پاکستان

اپنی زکوٰۃ آسانی سے حساب کریں — تازہ سونے چاندی کے نرخوں کے ساتھ

آج کے نرخ (فی تولہ)

سونا (24K)
Rs 4,34,000
/ تولہ
چاندی
Rs 6,256
/ تولہ

آخری اپڈیٹ: 17 Oct 2026 · ماخذ: آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن

AdSense Ad Slot 1

مرحلہ 1 — اپنے اثاثے لکھیں

مرحلہ 2 — واجب الادا قرض منہا کریں

جو قرض آپ پر واجب الادا ہے وہ قابلِ زکوٰۃ رقم سے منہا ہوگا۔

مرحلہ 3 — نصاب کا معیار چنیں

احتیاط اسی میں ہے کہ جو نصاب کم ہو اسے معیار بنایا جائے تاکہ غریبوں کا حق ضائع نہ ہو۔ عام طور پر چاندی کا نصاب کم ہوتا ہے۔

مفت قرآن کورسز — داخلہ جاری ہے
Quran Online Mentors Academy — بچوں اور بڑوں کے لیے آن لائن قرآن کلاسز
مزید جانیں
AdSense Ad Slot 2

زکوٰۃ کے بنیادی احکام

زکوٰۃ کب واجب ہوتی ہے؟

جب کوئی مسلمان، عاقل و بالغ شخص نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ مال کا مالک ہو اور اس مال پر ایک قمری سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔

نصاب کیا ہے؟

نصاب کی دو قسمیں ہیں: 7.5 تولہ سونا (87.48 گرام) یا 52.5 تولہ چاندی (612.36 گرام)، یا ان کے برابر نقدی، بینک بیلنس یا کاروباری مال۔

زکوٰۃ کی شرح کیا ہے؟

قابلِ زکوٰۃ مال کا چالیسواں حصہ یعنی 2.5 فیصد زکوٰۃ واجب ہے۔

کن چیزوں پر زکوٰۃ ہے؟

سونا، چاندی، نقد رقم، بینک بیلنس، کاروباری مال اور وصول ہونے والی رقم پر زکوٰۃ ہے۔ ذاتی استعمال کی چیزیں جیسے رہائشی مکان، گاڑی اور کپڑوں پر زکوٰۃ نہیں۔

عام سوالات

کیا قرض زکوٰۃ سے منہا ہوگا؟

جی ہاں۔ جو قرض آپ پر واجب الادا ہے وہ آپ کے قابلِ زکوٰۃ اثاثوں سے منہا کیا جائے گا، باقی رقم پر زکوٰۃ ہوگی۔

سونے اور چاندی میں سے کون سا نصاب معیار بناؤں؟

علماء کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک احتیاط اسی میں ہے کہ جو نصاب قیمت میں کم ہو اسے معیار بنایا جائے، کیونکہ اس میں غریبوں کا فائدہ ہے۔ آج کل عام طور پر چاندی کا نصاب کم ہوتا ہے۔

کیا زیورات پر بھی زکوٰۃ ہے؟

جی ہاں، سونے چاندی کے زیورات — چاہے روز پہنے جاتے ہوں — ان کی موجودہ قیمت پر زکوٰۃ واجب ہے (جمہور علماء کے نزدیک)۔

زکوٰۃ کب ادا کرنی چاہیے؟

نصاب پر ایک قمری سال مکمل ہوتے ہی زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے اور جلد ادا کر دینی چاہیے۔ رمضان میں ادا کرنے کا ثواب زیادہ ہے مگر انتظار واجب نہیں۔

کیا بینک کے منافع پر زکوٰۃ ہے؟

بینک میں موجود اصل رقم پر تو زکوٰۃ ہے۔ سودی منافع حرام ہے — اسے ثواب کی نیت کے بغیر غریبوں میں دے دینا چاہیے۔

کیا یہ کیلکولیٹر حتمی فتویٰ ہے؟

نہیں۔ یہ کیلکولیٹر حساب میں آسانی کے لیے ہے۔ خاص صورتوں میں اپنے علاقے کے مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔

یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے ہے، حتمی فتویٰ نہیں۔ پیچیدہ صورتوں میں مستند عالم سے رجوع کریں۔